What vegetable has the most benefits?
![]() |
| Grean leave vegetables / 6 types of saag |
عام
طور پر سبز تر کاریاں غذا کے طور پر کھائی جاتی ہیں۔ سبزیاں قدرتی نمکیات ،
معدنیات اور وٹامنز کا خزانہ ہیں ، سبز ترکاریوں میں چونکہ نمکیات کی مقدار زیادہ
ہوتی ہے اسلیے ان کا استعمال جگر، گردے، مثانہ کی پتھری اور پرانے قبض میں بہت
مفید ہے، سبزیاں عام طور پر زود ہضم اور قبض کشا ہوتی ہیں، اور انتریوں کو صاف کر
کے انہیں طاقت بخشتی ہیں۔ اس لیے سبزیوں کا استعمال صحت اور زندگی کیلئے نہایت
مفید اور ضروری ہے، آلو، شلغم، چقندر، گاجر اور شکر قندی وغیرہ میں نشاستہ اور شکر
وغیرہ کافی مقدار میں ہوتی ہیں ، عام سبزیوں میں نائٹروجنی اجزا کی مقدار کم اور
وٹامنز اور نمکیات کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، سبزیوں کے نمکیات سے خون معتدل اور صاف
رہتا ہے خون اور جلد کے امراض لاحق نہیں ہوتے قبض کی شکایت بھی نہیں ہوتی ، ٹماٹر،
گاجر، مولی ، آلو، گوبھی ،شلغم ،پالک ،میتھی ، ٹنڈے، کدو اور مٹر وغیرہ مفید اور
صحت بخش سبزیاں ہیں۔
سبزیوں
کی ککنگ :
سبزیوں کو پکانے کا بہترین طریقہ یہ ہے
کہ انہیں پانی کے بغیر پکایاجائے اس طرح پکی ہوئی سبزی زیادہ نفع بخش ہوتی ہے لیکن
اگر اس طریقہ سے نہ پکایا جائے تو پھر صرف اتنے پانی میں پکایا جائے جو پکتے پکتے
انہی میں جذب ہو جائے ۔ معمولی گھی میں پکی ہوئی سبزیاں زود ہضم و طاقت بخش اور
گھی میں تلی اور بھنی ہوئی دیر ہضم ہوتی ہیں اور ان کے وٹامنز اور غذائیت ضائع ہو
جاتی ہے، سبزیوں کو نرم آنچ پر پکانا چاہیے ، کچی سبزی کھانا ، بہت مفید ہے، گاجر،
مولی ، شلغم ٹماٹر کھیرا، سلاد اور پیاز وغیرہ کچے کھائے جاسکتے ہیں۔
ساگ
غذائی
اہمیت:
اکثر لوگ ساگ کو ایک کم درجہ کی غذا
سمجھتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ زندگی کی بنیاد انہی ساگوں اور سبزیوں پر قائم ہے۔
انہی کے ذریعے سے قدرت زندگی کی تعمیر کے لیے گارا اور مسالہ تیار کرتی ہے اور ان
کے بغیر زندگی زیادہ عرصہ تک قائم نہیں رہ سکتی دودھ جسے ہم ایک اعلیٰ درجہ کی غذا
سمجھتے ہیں۔ انہی ساگوں اور
سبزیوں کا دوسرا روپ ہے۔
ساگ کے
اجزاء اور خواص:
ساگ میں کیلشیم (چونا ، سوڈیم ، نمک )
کلورین، فاسفورس، فولاد، پروٹین، جسم کو بڑھانے والے اجزا اور وٹامنز اے، بی ،ای
کافی مقدار میں ہوتے ہیں۔ ساگ کے سلسلے میں یہ بات ہر شخص کے یادرکھنے کے قابل ہے
کہ ساگ اور دودھ بڑی حد تک ایک دوسرے کا بدل ہو سکتے ہیں، اور جہاں دودھ کی کمی ہو
وہاں ساگ کے استعمال سے اس کی تلافی ہو سکتی ہے۔ بچوں کی نشو و نمامیں بھی ساگ سے
بہت مددمل سکتی ہے اور اگر ان میں بچپن ہی سے ساگ اور سبزی کی رغبت ہو جائے تو یہ
عادت زندگی بھر ان کی صحت کی حفاظت کرتی ہے، بچے جب دودھ سے ٹھوس غذا کی طرف آنے لگتے
ہیں، اسی وقت سے انہیں ساگ اچھی طرح پکا کر خوب حل کر کے دیئے جاسکتے ہیں۔
بتھوا ( ہا تھو کا ساگ)
خواص:
ایک خودرو اور عام سبزی ہے۔ لیکن فوائد
کے اعتبار سے بے نظیر ہے۔ معتدل قبض کشا اور پیشاب آور ہے۔ پیشاب کی کوئی بیماری
نہیں ہونے دیتا، معدے اور آنتوں کو طاقت بخشتا ہے۔ گرمی کی وجہ سے بڑھے ہوئے جگر
اور تلی کو مفید ہے۔ پیاس کو تسکین دیتا ہے اور پتھری کے لیے سود مند ہے۔
سوئے کا ساگ
خواص:
گرم خشک ہے، بادی کو خارج کرتا ہے، بد
ہضمی ، بادی بلغم تلی کے درد، اور گردہ مثانہ کی پتھری کا دافع ہے، گرم طبیعت
والوں کیلئے مضر ہے۔
کرم
کلہ کا ساگ
خواص
:
گرم خشک ہے، ہاضمے کو تیز کرتا ہے مصفی
خون ، قبض کشا اور نیند کی کمی، پتھری، پیشاب کی رکاوٹ وغیرہ میں مفید ہے۔ خشکی
اور مرگی کے بیماروں کو اس کا استعمال نہ کرنا چاہیے۔ اس کے کھانے کےبعد تھوڑا سا گڑھ
کھانا مفید ہے۔
خرفہ (
قلفا) کا ساگ
خواص:
سرد تر ہے، گرمی اور جوش خون کو دور کرتا
ہے۔ تلی ، جگر اور معدے کی مری ہے۔ اور ہے بواسیر، گرمی کو رفع کرتا ہے۔ پیشاب آور
اور قبض کشا ہے۔ خونی بواسیر ، پتھری، کھانسی اور سوزاک میں مفید ہے۔
مکو کا
ساگ
خواص:
سرد خشک ہوتا ہے، بادی کی جملہ بیماریوں،
ہر قسم کے دردوں اور جلندھر میں مفید ہے قبض کشا ہے اور پیشاب آور ہے پیچکی اور قے
کو روکتا ہے ہے پیچھے اور اندرونی و بیرونی سوجن کو مٹاتا ہے۔ امراض جگر، درد گردہ
اور ورم گردہ میں خصوصیت سے مفید ہے۔
سرسوں
کا ساگ
خواص:
گرم خشک ہے قبض کشا اور پیشاب آور ہے۔ اس
کے استعمال سے پیٹ کے کیڑے ہلاک ہو جاتے ہیں اور بھوک بڑھ جاتی ہے۔

Comments
Post a Comment