Which milk product is good for health?

بالائی (ملائی Cream )

(جسم اور دماغ کو بے حد طاقت بخشتی ہے، خشک کھانسی میں مفید ہے)

خواص:

دودھ سے حاصل  ہوتی ۔ ہے اور نہایت عمدہ اور جسم کو پرورش کرنے والی غذا ہے۔ اس میں چکنائی زیادہ ہوتی ہے، فوائد میں لکھن سے ملتی جلتی ہے لیکن مکھن کی طرح سرد تر نہیں بلکہ گرم تر ہے، جسم اور دماغ کو بے حد طاقت بخشتی ہے، خشک کھانسی میں مفید ہے، البتہ قدرے قابض ہوتی ہے اور کمزور معدے اسے جلد ہضم نہیں کر سکتے۔ معمولی مقدار میں بآسانی ہضم ہو جاتی ہے۔

Cream

پنیر (Cheese)

خواص:

پنیر بھی دودھ ہی سے تیار ہوتا ہے، دودھ میں لیموں یا دہی وغیرہ ترش چیز ڈال کر تیار کیا جاتا ہے۔ اس کی تاثیر سردتر ہوتی ہے، یورپ میں کچا پنیر نمک لگا کر کھانے کا عام رواج ہے، اس طرح بے حد طاقت بخشتا ہے، بعض ملکوں میں اسے پکا کر کھایا جاتا ہے۔

پنیر کی تاثیر اور فوائد :

پنیر کی تاثیر سرد تر ہے، خون پیدا اور بدن کو موٹا کرتا ہے، گردہ معدہ اور آنتوں کو طاقت بخشتا ہے، قدرے دیر سے ہضم ہوتا ہے اس لیے سیاہ زیرہ،دھنیا ، الائچی ڈال کر استعمال کرنا چاہیے۔پنیر کا پانی زود ہضم قبض کشا اور طاقت بخش ہوتا ہے۔ رہی یا چھاچھ سے تیار کردہ پنیر جس کا پنجاب میں رواج ہے، گرم تر ہوتا ہے۔ بادی کو دور کرتا اور بھوک لگاتا ہے لیکن زکام اور کھانسی میں مضر ہے۔

Cheese

چھاچھ (لسی)

چھاچھ میں کیلشیم، منیشیم ، پروٹیم ، سوڈیم ، فاسفورس، کلورین ، سلفر وغیرہ نمک ہوتے ہیں۔

ایک کم خرچ اور مفید غذا

دہی اور چھاچھ میں ایسے جراثیم ہیں، جن کی طبعی خاصیت یہ ہے کہ پیٹ میں جاتے ہی امراض پیدا کرنے والے جراثیم سے جنگ کر کے انہیں مغلوب کر لیتے ہیں اس لیے امراض کا مقابلہ کرنے کے لیے چھاچھ بہترین چیز ہے۔

چھاچھ کے خواص:

آیور ویدک میں اسے مرض سنگرہنی کا قاتل بیان کیا گیا ہے یعنی جس طرح آگ خس و خاشاک کے انبار کو خاکستر کر دیتی ہے اسی طرح چھا چھ مرض سنگرہنی کو بیخ و بن سے اکھاڑ دیتی ہے، سنگرہنی کا مرض قیمتی ادویہ کے استعمال سے بھی چھاچھ کے بغیر اچھا نہیں ہوتا، صرف چھاچھ ہی بہت سے امراض کا تریاق اور اکثر دواؤں سے افضل ہے۔ سنگرہنی کے مریضوں کو ہمیشہ گائے کی دہی کی لسی پینی چاہیے۔

چھاچھ کے عناصر :

چھاچھ میں لیکٹک ایسڈ کی موجودگی کے باعث پیٹ میں گیس پیداکرنے والے جراثیم پر اس کا اثر نہایت عمدہ ہوتا ہے، اس میں گوشت پیدا کرنے والے پروٹین کے نہایت لطیف ذرات ہوتے ہیں اس لیے یہ دیگر اشیا کی طرح ہضم ہونے میں تقبیل نہیں ہوتی۔ یہ پروٹین بہت جلد ہضم ہو جاتا ہے اور دوسری اشیا کو بھی ہضم کرتا ہے اس کے کے استعمال اس سے ثقیل اور نا قابل ہضم غذاؤں کے ہضم ہونے میں مدد ملتی ہے، جن کو معدہ چھاچھ کی امداد کے بغیر بشم کرنے سے عاجز ہوتا ہے، چھاچھ میں کیلشیم، منیشیم ، پروٹیم ، سوڈیم ، فاسفورس، کلورین ، سلفر وغیرہ نمک ہوتے ہیں۔ اور یہ سب گوشت اور ہڈی کی پرورش کرنے والے ہیں۔

مضر مادوں کی صفائی :

بے قاعد و طور پر بار بار کی چیزیں کھا جانے سے وہ اچھی طرح ہضم نہیں ہوتیں۔ اور ان کا غیر منضم حصہ انتڑیوں میں سڑنے لگتا ہے لیکن چھاچھ کے پینے۔ ے سے انتڑیوں میں خون کا دورہ بڑی تیزی سے ہونے لگتا ہے اور وہ تمام غلیظ مادوں سے صاف ہو جاتی ہیں۔

اعلیٰ درجہ کی غذا:

چھا چھ سے رطوبت ہاضمہ زیادہ پیدا ہو جاتی ہے، اس لیے قوت ہاضمہ بڑھ جاتی ہے۔ اور اس کے استعمال سے بدن قومی اور مضبوط ہو جاتا ہے۔ چھا چھ سے آلات ، بول و براز کے افعال کو طاقت ملتی ہے، غذا بر وقت ہضم ہوتی ہے اور فضلات با قاعدہ خارج ہوتے ہیں۔ فرانس کے پامینپورٹ انسٹی ٹیوٹ کے ڈاکٹر حسین نے تجربات سے ثابت کیا کہ چھاچھ کے استعمال سے بڑھاپا جلد نہیں آتا۔ جسم کی پرورش کرنے کے لیے چھ چھ اعلی درجہ کی غذا۔ تازہ اور پیٹھی چھا چھ پینے سے انتڑیوں میں زہر پیدا کرنے والے جراثیم فورا ہلاک ہو جاتےہیں اور قوت ہاضمہ میں اضافہ ہوتا ہے۔

چھاچھ سے مکھن نکالنا:

چھا چھ کی تاثیر سرد تر ہوتی ہے۔ جس چھاچھ کو اچھی طرح بلو کر لکھن نکال لیا جائے وہ ہلکی اور زود ہضم اور طاقت بخش ہوتی ہے۔ جس چھاچھ سے مکھن نہ نکال لیا جائے وہ دیر ہضم اور تقیل ہوتی ہے البتہ بدن کو موٹا کرتی ہے۔

کمزور ہاضمہ کے لیے اکثیر :

مکھن نکالی ہوئی کسی میں جس دہی سے ایک تہائی یا چوتھائی پانی ڈالا گیا ہو، پینا کمزور اور ہاضمہ والوں کے لیے مفید ہے۔ جن کو اکثر زکام کی شکایت رہتی ہے۔ کمریا یا جوڑوں میں درد ہو، نیند زیادہ آتی ہے یا کبھی کبھی بخار آ جاتا ہو،انہیں لسی پینے سے پر ہیز لازم ہے۔بلغمی طبیعت والے چھاچھ کے ساتھ سونٹھ اور سیاہ مرچ پھانک لیں تو بہت مفید ہے، گرمی کی شکایت میں مصری ملا کر پئیں اور بادی میں نمک ملا کر میں مصری ملا کر اور کرپینا مفید ہے۔

Lahssi

مکھن اور گھی

مادہ تولید ( دمرج) کو بڑھاتا ہے، آنکھوں کو طراوت بخشتا ہے، اور بدن کو موٹا کرتا ہے۔ بوڑھے،جوانا اور بچے ہر عمر کو موافق ہے، چربی پیدا کرتا ہے۔

خواص:

پاکستانیوں کی غذا کا سب سے اہم جزو ہے، یہ مقوی جسم اور پرورش کنندہ ہیں غذا کے اعتبار سے طبعی طور پر گھی کی نسبت لکھن زیادہ مفید - ہے چونکہ تھی اور مکھن دودھ سے حاصل ہوتے ہیں اس لیے ان کی قوت اور زیادہ مفید ہے اور بہتر وٹامنز کی مقدار ، دودھ کی عمدگی اور اس کے وٹامنز پر موقوف ہے اور دودھ میں وٹامنز اور دیگر مقوی اجزا دودھ دینے والے جانور کی غذا اور رہنے کے طریق پر منحصر ہوتے ہیں۔ جو جانور کھلے اور دھوپ والے کھیتوں اور سبزہ زاروں میں گھاس چرتے ہیں ، ان کے دودھ میں بالائی مکھن اور وٹامنز زیادہ ہوتے ہیں اس کے خلاف جن جانوروں کا چارہ ناقص ہو، ان کا دودھ اور بھی بھی کم طاقتورہوتا ہے۔

تاثیر اور فوائد:

مکھن سردتر اور گھی کی نسبت زود ہضم ہے، ہر قسم کی گرمی اور خشکی اور کمزوری کو دور کرتا ہے، دل و دماغ کو طاقت بخشتا ہے، مادہ تولید ( دمرج) کو بڑھاتا ہے، آنکھوں کو طراوت بخشتا ہے، اور بدن کو موٹا کرتا ہے۔بوڑھے،جوانا اور بچے ہر عمر کو موافق ہے، چربی پیدا کرتا ہے۔گھی گرم ہوتا ہے۔ یہ گوشت ، خون، چربی، ہڈی اور منی (دیرج) کو بڑھاتا ہے۔ جسم کو طاقت بخشتا ہے اور دماغ کو روشن کرتا ہے۔

Makhan | Butter
Ghee


کھویا

خواص:

دودھ کو ہلکی آنچ پر دیر تک پکا کر تیار کیا جاتا ہے اس سے اکثر پاکستانی مٹھائیاں تیار کی جاتی ہیں، دیر ہضم اور ثقیل ہوتا ہے۔ اور اس میں جراثیم کا پرورش کا اندیشہ ہر وقت رہتا ہے۔



Comments

Popular posts from this blog

🌿 Chia Seeds aur Basil Seeds – Chhoti Si Cheez, Bara Faida

Shugar ke Mareezon ke Liye Behtareen Diet Plan

Depression Se Bachne Ke 10 Aasan Tareeqay – Mental Health Tips