Why is milk a complete food? || milk health benefits || Is it good to drink milk daily? دودھ کے صحت بخش فوائد
دودھ کے صحت بخش فوائد
(Milk Health
Benefits)
دودھ کے کیا فائدےہیں؟
دودھ انسان کو خدا کی طرف عطیہ کی گئی عظیم نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ دودھ۔ کو خدانے اور اس کے بندوں نے سب سے زیادہ پسند کیا ہے اور جس میں خدا نے اپنی برکتیں بھر دی ہیں ۔ دودھ کو ہمیشہ سے ہی ایک مکمل غذا کی اہمیت حاصل رہی ہے نہ صرف پرانے وقتوں میں بلکہ موجودہ دور میں بھی دہی ،مکھن ، گھی دودھ سے ہی حاصل کیا جاتا ہے۔
![]() |
| milk health benefits |
دودھ ایک مکمل غذا:
جدید سائنٹیفک تحقیقات سے بھی دودھ
مکمل غذا ثابت ہوا ہے، ایک مکمل غذا میں چربی، حرارت پیدا کرنے والے اجزا
نمک، پانی، چونا اور وٹامنز ہونے ضروری ہیں اور دودھ میں یہ سب اجزا پائے جاتے
ہیں، اس میں کیلشیم ( چونے ) کی مقدار تمام غذاؤں سے زیادہ ہوتی ہے، ہمارے جسم کی
تعمیر اور بقائے صحت کے لیے چونا از بس ضروری ہے، اس سے پٹھوں اور ہڈیوں کی پرورش
ہوتی ہے، چونے کی کمی سے جسم پورے طور پر نشو و نما حاصل نہیں کرتا اور آہستہ
آہستہ کمزور ہو کر نا کارہ ہو جاتا ہے۔ چونے کی کمی پوری کرنے کے لیے دودھ بہترین
چیز ہے، جن بچوں کی نشو ونما ناقص غذا کے باعث نا مکمل ہو، دودھ ان کے لیے بہترین
غذا ہے۔ دوسری کوئی غذا نشو ونما کے لیے اس قدر مفیدنہیں ہو سکتی۔
دودھ کے اجزاء۔
دودھ میں پائے جانے والے وٹامنز میں
وٹامن بی اور سی سر فہرست ہیں۔ دودھ ایک ایسی غذا ہے جو کہ زود ہضم صورت میں پائی
جاتی ہے ۔ بکری، گائے اور بھینس کا دودھ اچھا ہوتا ہے، شوگر اور نمکیات گائے کے دودھ میں کم ہوتے ہیں
مگر پنیر اور چکنائی زیادہ ہوتی ہے بھینس کے دودھ میں بھی چکنائی اور پنیر زیادہ
مقدار میں پایا جاتا ہے ۔ بکرے کے دودھ میں پنیر اور شکر کے اجزا کم ہوتے ہیں۔
دودھ کے خواص:
بھینس کا دودھ مقوی باہ اور طاقت
بخش ہے، بچوں اور بوڑھوں کو جلدہضم نہیں ہوتا، کمزور ہاضمے والوں کو بھینس کے دودھ
سے پر ہیز کرنا چاہیے، دماغی کام کرنے والوں کے لیے بھی بھینس کا دودھ مفید نہیں
بلغم پیدا کرتا ہے، بلغمی مزاج والوں کو دودھ میں الائچی ، چھوہارے یا سونٹھ ابال
کر پینا چاہیے۔
دودھ اور وٹامن:
جانور کے چارے اور آب و ہوا کا دودھ
پر بے حد اثر ہوتا ہے جو جانور کھلی چرا گاہوں میں سبز گھاس کھاتے اور تازہ ہوا
اور روشنی میں رہتے ہیں۔ جانور کے دودھ اور گھی میں وٹامن ڈی کے اجزا بکثرت ہوتے
ہیں۔ اپھارے کے مریضوں اور بادی و بلغمی مزاج والوں کو دودھ میں الائچی ، چھوہارا
یا سونٹھ ڈال کر جوش دے کر پینا چاہیے۔
فائدے:
بالکل تازہ یا ابال کر سرد کیے ہوئے
دودھ میں پانی ملا کر پینا گرمی کو تسکین دیتا اور پیشاب لاتا ہے، دودھ میں زیادہ
میٹھا نہیں ڈالنا چاہیے، کیوں کہ اس سے ہاضمے میں نقص پیدا ہوتا ہے۔ دودھ کے ساتھ
نمک، ترش چیزیں یامچھلی کا گوشت نقصان دہ ہے۔
بکری کا دودھ گائے بھینس کے دودھ سے مفید؟
بکری کا دودھ گائے اور بھینس کے
دودھ کی نسبت زیادہ مفیدہوتا ہے۔ جسم کا پرورش کرنے والا محافظ صحت ہے۔ امریکہ کے
مشہور ماہر غذائیت ڈاکٹر ڈوگلس تھامس نے تجربات کی بنا پر ثابت کیا ہے کہ بکری کا
دودھ دوسری تمام پینے والی چیزوں کے مقابلے میں افضل اور فائدہ مند ہے۔ اس کی
برتری کے دو خاص سبب یہ ہیں۔ کہ ایک تو بکریوں میں سل کا مرض نہیں ہوتا ، جو گائے
میں عام ہوتاہے۔ دوسرے یہ نسبتا زود ہضم ہوتا ہے۔
بچوں کی غذا:
ڈاکٹر میریٹ کا بیان ہے! بچوں کی
غذا کے طور پر بکری کا دودھ اس صورت میں بہت ہی ضروری اور مفید ہے۔ جب گائے کا
دودھ بچے کو راس نہ آئے ، اور اس سے بد ہضمی وغیرہ کی شکایات لاحق ہو جاتی ہے،
ایسے بچے بکری کادودھ آسانی سے ہضم کر لیتے ہیں۔ڈاکٹر این، این بیک نے مقابلے کے
لیے بکری اور گائے کے دودھ کا تجربہ کیا ہے۔ وہ بکری کے دودھ کی اس بات پر بہت زور
دیتے ہیں، کہ وہ زود ہضم ہوتا ہے اور ان بچوں کے لیے جن کے جسم کی نشو و نما رک
گئی ہو یا ان مریضوں کے لیے جن کا ہاضمہ خراب ہو۔ اس کے استعمال کی پُر زور سفارش
کرتے ہیں۔
بکری کا دودھ زود ہضم :
بکری کا دودھ زود ہضم ہونے کے خاص
اسباب ہیں، ایک تو یہ کہ اس کی چربی کے کیسوں کی دیواریں بہت ہی پیلی ہوتی ہیں۔
دوسرے اس کے دودھ کی چربی لطیف ترین ہوتی ہے اور معدے کی رطوبت بآسانی دودھ پر
اپنا اثر کر سکتی ہے، تیسرے اس کے کیرین کے دانے بھی نتھے ہوتے اور بآسانی ہضم ہو
جاتے ہیں، چوتھے اس میں البیومن کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ بکری کے دودھ میں چکنائی
اور نمکیات کے اجزا بہت کافی ہوتے ہیں۔ نمکوں میں سے ایک نمک کیلیشیم (چونا) کا
بھی ہوتا ہے، یہ یاشیم کا نمک بکری کے دودھ کا جزو اعظم ہے کیلشیم جسمانی
پرورش کے لیے بہت ضروری ہے جس میں اس کی کمی سے تپدق کا عارضہ ہو سکتا ہے۔
بکری اور گائے کا دودھ :
اگر بکری اور گائے کے دودھ کا
مقابلہ کریں تو بہت سے دل چسپ فرق معلوم ہوتے ہیں ۔ گائے کے دودھ کی کیفیت تیزابی
ہوتی ہے۔ کمزور معدہ والوں کے لیے بہت زیادہ نقصان دہ بھی ہوسکتا ہے گائے کا
دودھ کم سے کم دو گھنٹے میں ہضم ہوتا ہےجبکہ بکری کا دودھ ایک گھنٹے میں ہی ہضم
ہوجاتا ہے۔ دودھ میں جو نمکیات پائے جاتے
ہیں۔ گائے کے دودھ میں فولاد کا جزو تو گویا ہوتا ہی نہیں، بکری کے دودھ میں یہ
سات سے لے کر دس گنا تک ہوتا ہے، اسی طرح پوٹاشیم کی مقدار بھی بکری کے دودھ میں
بہت زیادہ ہوتی ہے اور پوٹاشیم سے زیادہ کوئی چیز آکسیجن کو جذب نہیں کرتی ،
آکسیجن کہیں بھی ہو، پوٹاشیم اسے جذب کر لیتا ہے۔ اب اس کے ساتھ فولاد کا جزو ملا
کر دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ بکری کے دودھ کے سوا کسی دوسرے دودھ میں آکسیجن کوجذب
کرنے کی اتنی صلاحیت نہیں ہوتی ۔
بکری کے دودھ میں عناصر :
بکری کے دودھ میں فلورین بکثرت ہوتا
ہے، یہ ہڈیوں کی نشوونما، دانتوں کی مضبوطی اور آنکھوں کی پرورش کے لیے بہت ضر وری
ہے ہماری صحت کی عمدگی کا دارو مدار ریڑھ کی ہڈی کی مضبوطی پر ہوتا ہے۔ میگنیشیم
ریڑھ کی ہڈی کو مضبوط کرتا ہے اور یہ جزو بھی بکری کے دودھ میں کافی ہوتا ہے، جسم
کے زہر یلے مواد کو تحلیل کر کے گردہ اور مثانہ کے راستے خارج کرنے کے لیے نمک ،
سوڈیم خاص چیز ہے۔ اگر سوڈیم یہ کام نہ کرے تو لائم اور میگنیشیم سخت ہو کر گردے
اور مثانے کی پتھری پیدا کرتے ہیں۔ بکری کے دودھ میں سوڈیم کی کثیر مقدار ہوتی ہے،
ان اجزا کے علاوہ اس میں وٹامنز بھی ہوتے ہیں۔
بکری کے دودھ کے فوائد :
بکری کا دودھ سردتر اور لطیف ہوتا
ہے، جنگلوں میں چرنے والی بکریوں کا دودھ فوائد کے اعتبار سے بہترین خیال کیا جاتا
ہے، یہ کھانسی سنگرہنی ، پیچش، تپ دق ، سل، تلی ، جگر، پرانا بخار، یرقان، بواسیر،
دماغ اور خون کی بیماریوں میں مفید ہے، بکرے کے دودھ میں املتاس اور کتھا ملا کر
غرارے کرنے سے منہ کے چھالے دور ہو جاتے ہیں۔ بکری کے دودھ میں روئی بھگو کر رات
کے وقت آنکھوں پر رکھ کر پٹی باندھنے سے درد چشم کو آرام ہو جاتا ہے۔
بھیڑ کا دودھ
گرم تر ہوتا ہے، خون پیدا کرتا ہے۔
جسم کو طاقت بخشتا ہے، بادی بلغم اور پھیپھڑے کے امراض میں نفع بخش ہے، پتھری
نکالتا ہے، بھیڑ کا دودھ ہمیشہ گرم کر کے نیم گرم پینا چاہیے۔
اونٹنی کا دودھ
مزاج کے اعتبار سے گرم خشک اور
ذائقے میں قدرے نمکین ہوتا ہے، یہ ہلکا اور زود ہضم بھی ہوتا ہے، بد ہضمی دور کرتا
ہے اور بھوک لگاتا ہے، بدن میں چستی پیدا کرتا ہے، کھانسی ، دمہ، جگر ہلکی اور
بواسیر کا دافع ہے۔
گدھی کا دودھ
یہ بھی تاثیر میں عورت کے دودھ سے
کسی قدر ملتا جلتا ہے، اس لیے یورپ میں بچوں کو گدھی کا دودھ پلانا مفید خیال کیا
جاتا ہے اور اس کا عام رواج ہے۔ اس کا مزاج سرد تر ہے، گرمی اور خشکی شکایت کے لیے
سودمند ہے، زود ہضم اور طاقت بخش ہے، ہاضمے کی کمزوری میں مفید ہے۔

Comments
Post a Comment